Skip to main content

Tera Chup Rehna Mere Zehen main kya bait ghaya


تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا 

اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا 

یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں 

جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا 

اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ 

اس نے جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا 

اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں 

چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا 

اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے 

اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا 

بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں 

دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا 

بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص 

جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا

Comments

Popular posts from this blog

To my dear mother