Skip to main content

Kab tak tu onchi awaz main bolyga

کب تک تو اونچی آواز میں بولے گا
تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا

اپنے آنسو اپنی آنکھ میں رہنے دے
ریت پہ کب تک ہیرے موتی رولے گا

آؤ شہر کی روشنیاں ہی دیکھ آئیں
کون ہماری خالی جیب ٹٹولے گا

لاکھ میرے ہونٹوں پر چُپ کی موہریں ہوں
میرے اندر کا فنکار تو بولے گا

دیکھ وہ اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے
اپنا سارا زہر تجھ ہی میں گھولے گا

اے سوداگر چاہت کی جاگیروں کے
کس میزان میں تو اس جنس کو تولے گا

محسن اس کی نرم طبیعت کہتی ہے
پل دو پل وہ میرے ساتھ بھی ہولے گا

محسن نقوی

Comments

Popular posts from this blog

To my dear mother