Skip to main content

Khamosh ko keaue dad e jafa keaue nhi dete..

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزن ِزنداں تو نہیں ہے
مہر و ماہ و انجم کو بُجھا کیوں نہیں دیتے

اک یہ بھی تو انداز ِعلاج ِغم ِجاں ہے
اے چارہ گروں درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاع ِدل و جان بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فراز اہل ِچمن پر
یاران ِقفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

Comments

Popular posts from this blog

To my dear mother