Skip to main content

Naya ek rishta paida keaue kary hum

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

وفا،اخلاص،قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

سنادیں عصمتِ مریم کا قصہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم

زلیخا سے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفاکیوں کریں ہم

اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری
فقط کمرے میں ٹہلا کیوں کریں ہم

جو اک نسلِ فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پرواکیوں کریں ہم

ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم

چبالیں خود ہی کیوں نہ اپنا ڈھانچہ
تمہیں راتیں مہیا کیوں کریں ہم

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

جون ایلیا

Comments

Popular posts from this blog

To my dear mother